aansoo dard bhari bewafa sad bewafayi shayari in urdu
Parveen shakir poetry read more
نیند میں بھی گرتے ہے میری آکھ سے آسو
جب بھی تم خوابوں میں میرا ہاتھ چھوڑ دیتے ہو
یوں تو میں یاد کرتی نہیں پر پتہ نہیں کیوں
اخو میں آسو اپنے آپ نکل پڑتے ہیں
بہت اندر تک تباہی مچاتا وہ
آسو جو بہنے سے در جائے
کیا دُکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہی سکتا
آسو کی طرح آکھ تک آ بھی نہی سکتا
رگوں میں نہی ہم دوڑنے پھرنے کے کایل
جب آکھ سے ہی نہ ٹپکے تو لہو کس کام کا


0 Comments
Please do not spam