صفحہ اے دہر سے باطل کو مٹایا ہمنے
نوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہمنے
تیرے کعبے کو جبینوں پہ بسایا ہم نے
تیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہمنے
پھر بھی ہم سے یہ گلا ہے کی وفادار نہی
ہم وفادار نہی تو بھی تو دل دار نہی
صفحہ اے دہر سے باطل کو مٹایا کس نے
نوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نے
تیرے کعبے کو جبینوں پہ بسایا کس نے
تیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نے
تھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہو
ہاتھ پے ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو
ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظر
کہیں مسجوت تھے پتھر تو کہیں مابوت عِشجن
جب گلا شکوہ اپنوں سے ہو تو کحموشی ہی بھلی
اب ہر بات پے جنگ ہو ہے ضروری تو نہی
کوئی چراغ جلاتا نہی سلیقے سے
مگر سب کو سخوا حبا سے ہے
0 Comments
Please do not spam