مانگ لو یہ منت کی پھر یہی جہاں میلے
پھر وہی گود پھر بھی ماں ملے
ماں کے لیے کیا لکھوں دوست
ماں نے مجھے خود لکھا ہے
بھوک تو ایک روٹی سے بھی مٹی جاتی ماں
اگر پلیٹ کی روٹیں تیرے ہاتھ کی ہوتی
ماں نے اپنی درد بھری خط میں لکھا تھا
سڑکیں پکی ہیں اب تو گاؤں آیا کر


0 Comments
Please do not spam